گجرات (پ۔ر)جامعہ گجرات کے شعبہ سوشیالوجی کے زیر اہتمام تدارک و انسدادِ منشیات کے حوالہ سے ایک سیمینار”منشیات سے پاک پنجاب“ کا انعقاد حافظ حیات کیمپس میں ہوا۔ سیمینار کا مقصد نوجوان طلبہ کو منشیات کے مُضر اثرات سے متعارف کرواتے ہوئے انہیں بطور سماجی سفیر سماج و معاشرہ میں صحت مند اقدا رکے فروغ کے لیے اپنے مقام و کردار سے روشناس کروانا تھا۔ حافظ حیات کیمپس میں منعقدہ سیمینار کا انعقادشعبہ سوشیالوجی کی جانب سے ایک ہفتہ سے جاری آگاہی مہم کا حصہ تھا۔ سیمینار کے مہمان خصوصی ڈائریکٹر کاؤنٹر نارکوٹکس فورسCNFگجرات لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ فیصل محمود تمغہ امتیاز ملٹری تھے جبکہ میزبانی چیئر پرسن ڈاکٹر محمد شعیب نے کی۔ لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ فیصل محمود نے CNFکے اغراض و مقاصد،کارکردگی اور انسداد منشیات کے لیے کاوشوں کا مفصل تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ منشیات سے بچاؤ بارے آگاہی ایک اجتماعی معاشرتی ذمہ داری ہے۔ منشیات کا سرطان معاشرہ کی بنیادوں کو کھوکھلا کرتے ہوئے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بنتا ہے۔ پاکستان کو ایک مضبوط و توانا قوم بنانے اور سماجی ترقی کی صحیح معنوں میں علمبرداری کے لیے منشیات فروشوں کا قلع قمع لازم ہے۔ کاؤنٹر نار کو ٹکس فورس منشیات کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے کمربستہ ہے۔ لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ فیصل محمود نے مزید کہا کہ پاکستان میں اس وقت تقریباً10ملین لوگ نشہ کی لعنت کا شکار ہیں۔ 15سے34برس کی عمر کے تقریباً67فیصد لوگ اس لعنت کا شکار ہیں۔طلبہ پاکستان کا مسقبل ہیں۔ طلبہ میں منشیات کے نقصا نات بارے آگاہی پیدا کرتے کرتے ہوئے ہم ملک عزیز کا مستقبل روشن بنا سکتے ہیں۔منشیات کے شکار افراد کو ہمارے معاشرہ و سماج کو ہمارے معاشرہ و سماج میں اچھوت خیال کیا جاتا ہے حالانکہ انہیں مریض گردانتے ہوئے ان کے علاج اور دیکھ بھال ضروری ہے۔منشیات کا شکار اکثر افراد شوقیہ طور پر یا سٹیٹس سمبل کے طور پر نشہ شروع کرتے ہیں اور پھر ان کے لیے نشہ جیسی لعنت کو چھوڑنا وبال جان بن جاتا ہے۔منشیات انسانی جسم و جان کو کئی مہلک و پیچیدہ جسمانی و نفسیاتی بیماریوں کا شکار بناتے ہوئے اچھے برے کی پہچان بھلا دیتی ہیں۔سماجی تنہائی بھی نشہ کا بنیادی سبب بنتی ہے۔والدین و اساتذہ اپنی اولاد اور شاگردوں کو تربیت،تبلیغ اور نصیحت کے ذریعے منشیات سے دور رکھنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔نیک صحبت اور زندگی میں مثبت مقاصد کا تعین آپ کو منشیات سے دور رکھتا ہے۔پنجاب و پاکستان میں اداری جاتی سطح پرانسداد منشیات کے لیے کامیاب کاوشیں جاری ہیں۔سیمینار میں مختلف دستاویزی فلموں کو پیش کرتے ہوئے طلبہ کی انسداد منشیات بارے تربیت کا فریضہ بھی سر انجام دیا گیا۔ڈاکٹر محمد شعیب نے کہا کہ نوجوان آبادی کو نشہ کی لت لگانے والے عناصر معاشرتی ناسُو رہیں۔ طلبہ کو چاہیے کہ وہ اپنے والدین کے اعتماد کو ٹھیس لگانے کی بجائے منشیات سے پرہیز کی راہ اپنائیں۔ منشیات کے مریضوں کا مناسب علاج اہم سماجی ذمہ داری ہے۔ سیمینار کے اختتام پر انسداد منشیات بارے تقریری مقابلہ میں بہترین کارکردگی کے حامل طلبہ کو تعریفی اسناد پیش کی گئیں۔ سیمینار میں طلبہ و اساتذہ کی کثیر تعداد کے علاوہ کاؤنٹر نارکوٹکس فورس کی ٹیم نے پُر جوش شرکت کرتے ہوئے شرکا کا حوصلہ بڑھایا۔